نہ کوئی راز کہانی تھی، نہ کوئی بات پرانی تھی
دل کو بس وہ پل چاہیئے، جہاں تیری موجودگی کی نشانی تھی
ہر سانس میں تُو تھا، ہر خواب میں تیرا نام تھا
تیرے بغیر یہ دنیا، جیسے سنسان ایک مقام تھا
پھولوں کی خوشبو میں، تیری یادوں کی مہک تھی
رات کے اندھیروں میں، تیرے لمس کی چمک تھی
محبت وہی، جو بے خودی کی حد تک لے جائے
اک لمحہ ہو ساتھ، اور زمانہ خود کو بھول جائے
تُو میری دعاؤں کا محور، میری آرزوؤں کا پیام
ہر درد کو مٹا دینے والا، تیرا عشق تھا میرے نام